منتخب مشائخ اکوڑہ خٹک کی علمی و دینی خدمات (قیام پاکستان سے دورِ حاضر تک)
DOI:
https://doi.org/10.66857/srh4-3482Abstract
یہ تحقیقی مقالہ برصغیر پاک و ہند اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے تاریخی قصبے اکوڑہ خٹک کی جغرافیائی، سیاسی، ادبی اور دینی اہمیت کے ساتھ ساتھ قیامِ پاکستان (۱۹۴۷ء) سے لے کر ۲۰۲۲ء تک وہاں کے منتخب مشائخ کی گوناگوں علمی، تدریسی، تصنیفی، فقہی، اصلاحی اور سیاسی خدمات کا جامع اور تحلیلی احاطہ کرتا ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ۲۳ ستمبر ۱۹۴۷ء کو شیخ الحدیث مولانا عبد الحق نے دارالعلوم حقانیہ کی بنیاد رکھ کر دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی و تدریسی تسلسل کو پاکستان منتقل کیا، جس کے باعث اکوڑہ خٹک کو "دیوبندِ ثانی" کے طور پر عالمی شناخت ملی۔
مقالیٰ میں اکوڑہ خٹک کی تین علمی نسلوں (دورِ اول، ثانی اور ثالث) کے مشائخ کی تدریسی خصوصیات، حدیث و تفسیر کے مناہج، اور جدید فتاویٰ نگاری (خصوصاً "فتاویٰ حقانیہ") کا فکری و شرعی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقالہ میں تصوف کتاب و سنت کی ترویج، بدعات کے خاتمے، تحریکِ تحفظِ ختم نبوت، آئینِ پاکستان کی اسلامی سازی، اور افغان جہاد و بین الاقوامی اسلامی سفارتکاری میں مشائخِ اکوڑہ خٹک کے تاریخی و تزویراتی کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تحقیق میں توصیفی، تاریخی، تحلیلی اور استنباطی مناہجِ تحقیق کا استعمال کیا گیا ہے۔
Downloads
Downloads
Published
Issue
Section
License
All articles published in The Study of Religion and History (SRH) are licensed under the Creative Commons Attribution 4.0 International License (CC BY 4.0).
This license permits unrestricted use, distribution, reproduction, and reuse in any medium, provided the original author(s) and the source are properly cited.



